خیار بلوغ کا حق
فتوی نمبر (٧٠٧)
ذاکر عباس سنابلی سلفی۔۔
فتوی نمبر (٧٠٧)
ذاکر عباس سنابلی سلفی۔۔
قسط اول
ہمارے ملک ہندوستان میں قانونی طور پر شادی کی کم از کم عمر لڑکوں کے لۓ ٢١ سال اور لڑکیوں کے لۓ ١٨ سال ہے،
اس سے کم عمر میں شادی قانونا جرم ہے،
اس بارے میں جب اسلام کی تعلیمات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہیکہ شریعت نے نکاح کے لۓ بلوغت کو افضل قرار دیا ہے اور کمسنی کی شادی کی کہیں پر بھی حوصلہ افزائ نہیں کی ہے،لیکن جواز میں کوئ اختلاف نہیں ہے،اور یہی عقل وفطرت کا تقاضہ بھی ہے۔کیوں کہ انسان کبھی زندگی کے ایسے موڑ پر ہوتا ہے جہاں اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اگربگڑی ہوئ بیٹی کا رشتہ نہ کیا گیا تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے تو ایسا شخص کسی بھی صورت میں بیٹی کا رشتہ کرنا چا ہے گا۔
اسی طرح کوئ بیوہ خاتون ہے جس کا کوئ وارث نہیں اور اس کے گھر میں جواں سال بیٹی ہے تو اس کی سب سے پہلی خواہش ہوگی کہ کسی طرح بیٹی کارشتہ کردوں اور میں محنت ومزدوری کرکے اپنی زندگی کاٹ لوں گی،ایسی خاتون کے لۓ بھی اس متعینہ وقت کا انتظار مشکل پیدا کرے گا۔
اسی طرح کے حالات کے پیش نظر کمسنی کی شادی کو اسلام نے جائز قرار دیا ہے۔ورنہ بلوغت ہی شرعا مطلوب ہے،
اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
،،حتي اذا بلغوا النكاح،،(النساء:٦).
یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل( بلوغت ) کو ہوجائیں۔
اس کی تفسیر کرتے ہوۓ علامہ قرطبی لکھتے ہیں:
قوله تعالي:،،حتي اذا بلغوا النكاح،،اي الحلم لقوله تعالي:واذا بلغ الاطفال منكم الحلم اي البلوغ،وحال النكاح،،
*:کمسنی کی شادی:
٢:اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
واللائ يئسن من المحيض ان ارتبتم فعدتهن ثلاثة اشهر واللائ لم يحضن،،
اور وہ عورتیں جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں ان کی عدت تین مہینے ہے اور اسی طرح ان کی جنہیں ابھی حیض نہیں آیا۔
مذکورہ آیت کریمہ میں ان لڑکیوں کی عدت بیان کی گئ ہےجنہیں ابھی حیض نہیں آیا۔ظاہر ہےکہ عدت کا سوال تو تب ہی پیدا ہوتا ہےجبکہ پہلے نکاح،رخصتی اور طلاق ہوچکی ہو۔
اس سے معلوم ہوتا ہیکہ بلوغت سے قبل شادی ہوسکتی ہے۔
٣:علامہ ابو بکر جصاص رازی احکام القرآن (٢/٦٢)میں محمد بن اسحاق سے نقل کرتے ہیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے سلمہ رضی اللہ عنہ کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت چھوٹی عمر میں حمزہ رضی اللہ عنہ کی چھوٹی بچی سے کردیا تھا۔
،،فزوجه رسول الله صلي الله عليه وسلم بنت حمزة وهما صبيان صغيران فلم يجتمعا حتي ماتا،،.آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمہ کا نکاح حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے کرادیا ۔اس وقت یہ دونوں چھوٹے سے بچے تھے۔
پھر وہ دونوں جمع نہیں ہوۓ یہاں تک کہ دونوں کا بجپن میں ہی انتقال ہوگیا۔
*:اجماع امت:
اسی طرح پوری امت کا اجماع ہیکہ کمسنی کی شادی جائز ہے۔
چنانچہ علامہ ابو بکر جصاص رازی ایک آیت کے تحت رقمطراز ہیں:
،،وفي هذه الاية دلالة ايضا علي ان للاب تزويج ابنته الصغيرة من حيث دلت علي جواز تزويج سائر الولياء ،اذ كان هو اقرب الاولياء ،ولانعلم في جواز ذلك خلافا بين السلف والخلف من فقهاء الامصار،،
اس ایت سے اس بات پر بھی رہنمائ ملتی ہیکہ باپ کو اپنی نابالغ بیٹی کا نکاح کرنے کا اختیار ہے۔
اس لۓ کہ اس ایت سے تمام اولیاء کے لۓ نکاح کرانے کا جواز معلوم ہوتا ہے تو باپ کا جو تمام اولیاء میں قریب ترین ہے،اس کا بدرجہ اولی اور ہمیں اس مسئلہ میں سلف وخلف کے فقھاء میں سے کسی فقیہ کا کوئ اختلاف نظر نہیں آیا۔
واللہ اعلم بالصواب۔۔۔
قسط دوم
ایک بات یاد رہے کہ کمسنی کی شادی عاقدین نہیں بلکہ اولیاء کی رضامندی سے منعقد ہوگی،خود ان کی رضامندی اس میں شامل نہ ہوگی،جیسا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کیا،
اب یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہیکہ کن اولیاء کو نابالغ بچوں کے نکاح کرنے کا حق حاصل ہے؟
اس سلسلہ میں فقھاء کرام کے مابین اختلاف ہے،امام مالک اور مشھور ترین قول کی روشنی میں امام احمد کا موقف ہیکہ صرف باپ کو یہ حق حاصل ہے ان کے علاوہ اور کوئ نابالغ بچہ کا نکاح نہیں کرسکتا،
امام شافعی نے باپ کے ساتھ دادا کا بھی اضافہ کیاہے کہ ان دونوں کو حق حاصل ہیکہ وہ نابالغ لڑکوں اور لڑکیوں کی رضامندی کے بغیر بھی ان کا نکاح کرنے کا حق رکھتے ہیں ،اور اگر یہ رشتہ پسندنہ آۓ تو بلوغت کے بعد انہیں نکاح فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
*:خیار بلوغ:
خیار بلوغ سے مراد وہ شرعی اختیار ہے جونابالغ لڑکے یا لڑکی کو بلوغت کے بعد بجپن میں کۓ گۓ نکاح کو برقرار رکھنے یا اسے (فسخ)ختم کرنے کا ملتاہے۔
*:خیار بلوغ اور فقھاء کی آراء۔
احناف کے نزدیک اگر باپ اور دادا کسی نابالغ کا نکاح کردیتے ہیں تو وہ نکاح لازم ہوگا اس کو بڑے ہونے پر فسخ کا اختیار نہ ہوگا ،لیکن اگر باپ اور دادا کے علاوہ کوئ رشتہ دار نکاح کرے تو بالغ ہونے کےبعد اسے اختیارہے ،چاہے تو اس نکاح کو باقی رکھے یا فسخ کردے،اور اسی کو ،،خیار بلوغ،، سے تعبیر کیا جاتا ہے،
ان کے بنیادی دلائل میں سے ایک اہم دلیل یہ ہیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عمارہ بنت حمزہ رضی اللہ عنہا کا نابالغی کے عہد میں نکاح کیا ہے،اور بالغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لۓ خیار کی گنجائش رکھی ہے،،،وجعل لها الخيار اذا بلغت،،(السنن الکبری للبیھقی ،کتاب النکاح،،باب ماجاء فی انکاح الیتیمۃ).
یہ وہ حدیث ہے جس کے پیش نظر احناف نے اولیاء کے مابین فرق کیا ہیکہ اگر باپ اور داد نکاح کرتے ہیں تو نکاح لازم ہوگا اور بڑے ہونے پر فسخ کا اختیار نہ ہوگا لیکن اگر ان کے علاوہ اگر کوئ دوسرا رشتہ نکاح کروادے تو بڑے ہونے پر ان کو نکاح فسخ کرنےکا اختیار حاصل ہوگا۔
لیکن جب حدیث پر نظر جاتی ہے تو اس میں اس طرح کی کوئ تفریق نہیں پائ جاتی ہے، لہذا احناف کا اولیاء کے مابین تفریق بلادلیل ہے اس لۓوہ قابل قبول نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
واللہ اعلم بالصواب۔
ہمارے ملک ہندوستان میں قانونی طور پر شادی کی کم از کم عمر لڑکوں کے لۓ ٢١ سال اور لڑکیوں کے لۓ ١٨ سال ہے،
اس سے کم عمر میں شادی قانونا جرم ہے،
اس بارے میں جب اسلام کی تعلیمات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہیکہ شریعت نے نکاح کے لۓ بلوغت کو افضل قرار دیا ہے اور کمسنی کی شادی کی کہیں پر بھی حوصلہ افزائ نہیں کی ہے،لیکن جواز میں کوئ اختلاف نہیں ہے،اور یہی عقل وفطرت کا تقاضہ بھی ہے۔کیوں کہ انسان کبھی زندگی کے ایسے موڑ پر ہوتا ہے جہاں اسے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اگربگڑی ہوئ بیٹی کا رشتہ نہ کیا گیا تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے تو ایسا شخص کسی بھی صورت میں بیٹی کا رشتہ کرنا چا ہے گا۔
اسی طرح کوئ بیوہ خاتون ہے جس کا کوئ وارث نہیں اور اس کے گھر میں جواں سال بیٹی ہے تو اس کی سب سے پہلی خواہش ہوگی کہ کسی طرح بیٹی کارشتہ کردوں اور میں محنت ومزدوری کرکے اپنی زندگی کاٹ لوں گی،ایسی خاتون کے لۓ بھی اس متعینہ وقت کا انتظار مشکل پیدا کرے گا۔
اسی طرح کے حالات کے پیش نظر کمسنی کی شادی کو اسلام نے جائز قرار دیا ہے۔ورنہ بلوغت ہی شرعا مطلوب ہے،
اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
،،حتي اذا بلغوا النكاح،،(النساء:٦).
یہاں تک کہ جب وہ نکاح کے قابل( بلوغت ) کو ہوجائیں۔
اس کی تفسیر کرتے ہوۓ علامہ قرطبی لکھتے ہیں:
قوله تعالي:،،حتي اذا بلغوا النكاح،،اي الحلم لقوله تعالي:واذا بلغ الاطفال منكم الحلم اي البلوغ،وحال النكاح،،
*:کمسنی کی شادی:
٢:اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں:
واللائ يئسن من المحيض ان ارتبتم فعدتهن ثلاثة اشهر واللائ لم يحضن،،
اور وہ عورتیں جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں ان کی عدت تین مہینے ہے اور اسی طرح ان کی جنہیں ابھی حیض نہیں آیا۔
مذکورہ آیت کریمہ میں ان لڑکیوں کی عدت بیان کی گئ ہےجنہیں ابھی حیض نہیں آیا۔ظاہر ہےکہ عدت کا سوال تو تب ہی پیدا ہوتا ہےجبکہ پہلے نکاح،رخصتی اور طلاق ہوچکی ہو۔
اس سے معلوم ہوتا ہیکہ بلوغت سے قبل شادی ہوسکتی ہے۔
٣:علامہ ابو بکر جصاص رازی احکام القرآن (٢/٦٢)میں محمد بن اسحاق سے نقل کرتے ہیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے سلمہ رضی اللہ عنہ کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت چھوٹی عمر میں حمزہ رضی اللہ عنہ کی چھوٹی بچی سے کردیا تھا۔
،،فزوجه رسول الله صلي الله عليه وسلم بنت حمزة وهما صبيان صغيران فلم يجتمعا حتي ماتا،،.آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمہ کا نکاح حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے کرادیا ۔اس وقت یہ دونوں چھوٹے سے بچے تھے۔
پھر وہ دونوں جمع نہیں ہوۓ یہاں تک کہ دونوں کا بجپن میں ہی انتقال ہوگیا۔
*:اجماع امت:
اسی طرح پوری امت کا اجماع ہیکہ کمسنی کی شادی جائز ہے۔
چنانچہ علامہ ابو بکر جصاص رازی ایک آیت کے تحت رقمطراز ہیں:
،،وفي هذه الاية دلالة ايضا علي ان للاب تزويج ابنته الصغيرة من حيث دلت علي جواز تزويج سائر الولياء ،اذ كان هو اقرب الاولياء ،ولانعلم في جواز ذلك خلافا بين السلف والخلف من فقهاء الامصار،،
اس ایت سے اس بات پر بھی رہنمائ ملتی ہیکہ باپ کو اپنی نابالغ بیٹی کا نکاح کرنے کا اختیار ہے۔
اس لۓ کہ اس ایت سے تمام اولیاء کے لۓ نکاح کرانے کا جواز معلوم ہوتا ہے تو باپ کا جو تمام اولیاء میں قریب ترین ہے،اس کا بدرجہ اولی اور ہمیں اس مسئلہ میں سلف وخلف کے فقھاء میں سے کسی فقیہ کا کوئ اختلاف نظر نہیں آیا۔
واللہ اعلم بالصواب۔۔۔
قسط دوم
ایک بات یاد رہے کہ کمسنی کی شادی عاقدین نہیں بلکہ اولیاء کی رضامندی سے منعقد ہوگی،خود ان کی رضامندی اس میں شامل نہ ہوگی،جیسا کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کیا،
اب یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہیکہ کن اولیاء کو نابالغ بچوں کے نکاح کرنے کا حق حاصل ہے؟
اس سلسلہ میں فقھاء کرام کے مابین اختلاف ہے،امام مالک اور مشھور ترین قول کی روشنی میں امام احمد کا موقف ہیکہ صرف باپ کو یہ حق حاصل ہے ان کے علاوہ اور کوئ نابالغ بچہ کا نکاح نہیں کرسکتا،
امام شافعی نے باپ کے ساتھ دادا کا بھی اضافہ کیاہے کہ ان دونوں کو حق حاصل ہیکہ وہ نابالغ لڑکوں اور لڑکیوں کی رضامندی کے بغیر بھی ان کا نکاح کرنے کا حق رکھتے ہیں ،اور اگر یہ رشتہ پسندنہ آۓ تو بلوغت کے بعد انہیں نکاح فسخ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔
*:خیار بلوغ:
خیار بلوغ سے مراد وہ شرعی اختیار ہے جونابالغ لڑکے یا لڑکی کو بلوغت کے بعد بجپن میں کۓ گۓ نکاح کو برقرار رکھنے یا اسے (فسخ)ختم کرنے کا ملتاہے۔
*:خیار بلوغ اور فقھاء کی آراء۔
احناف کے نزدیک اگر باپ اور دادا کسی نابالغ کا نکاح کردیتے ہیں تو وہ نکاح لازم ہوگا اس کو بڑے ہونے پر فسخ کا اختیار نہ ہوگا ،لیکن اگر باپ اور دادا کے علاوہ کوئ رشتہ دار نکاح کرے تو بالغ ہونے کےبعد اسے اختیارہے ،چاہے تو اس نکاح کو باقی رکھے یا فسخ کردے،اور اسی کو ،،خیار بلوغ،، سے تعبیر کیا جاتا ہے،
ان کے بنیادی دلائل میں سے ایک اہم دلیل یہ ہیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عمارہ بنت حمزہ رضی اللہ عنہا کا نابالغی کے عہد میں نکاح کیا ہے،اور بالغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لۓ خیار کی گنجائش رکھی ہے،،،وجعل لها الخيار اذا بلغت،،(السنن الکبری للبیھقی ،کتاب النکاح،،باب ماجاء فی انکاح الیتیمۃ).
یہ وہ حدیث ہے جس کے پیش نظر احناف نے اولیاء کے مابین فرق کیا ہیکہ اگر باپ اور داد نکاح کرتے ہیں تو نکاح لازم ہوگا اور بڑے ہونے پر فسخ کا اختیار نہ ہوگا لیکن اگر ان کے علاوہ اگر کوئ دوسرا رشتہ نکاح کروادے تو بڑے ہونے پر ان کو نکاح فسخ کرنےکا اختیار حاصل ہوگا۔
لیکن جب حدیث پر نظر جاتی ہے تو اس میں اس طرح کی کوئ تفریق نہیں پائ جاتی ہے، لہذا احناف کا اولیاء کے مابین تفریق بلادلیل ہے اس لۓوہ قابل قبول نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
واللہ اعلم بالصواب۔
قسط سوم
،،خیار بلوغ،، سے متعلق صحیح اور راجح موقف یہ ہیکہ اگر باپ خود ہی اپنے بیٹے یا بیٹی کا نکاح کردےتو بھی جوان ہونے کے بعد ان کو اختیار حاصل ہوگا،چاہے تواس کو باقی رکھے یا رد کردے،قاضی شریح فرماتے ہیں:،،اذا زوج الرجل ابنه،فالخيار لهما اذا شبا،،(مصنف ابن ابي شيبه٣/٤٦٢ حدیث:١٦٠١١).
*:جہل ایک شرعی عذر:
شریعت میں بہت ایسے امور ہیں جن میں ،،جہل،،اور عدم معرفت کوعذر تسلیم کیا گیا ہے،چنانچہ علامہ زرکشی رقمطراز ہیں:۔لو اكل الصائم جاهلا بالتحريم وكان يجهل مثل ذلك لم يفطر والا افطر.
المنثور في القواعد:١٦۔٢/١٥الجہل یتعلق بہ مباحث۔
اگر روزہ دار روزے میں کھانے کی حرمت سے واقف نہ ہو اور کھالے اور وہاں ایسی چیزوں سے ناواقفیت ممکن ہو،تو روزہ نہیں ٹوٹے گا،ورنہ ٹوٹ جاۓ گا۔
مذکورہ قاعدہ میں غور سے معلوم ہوتا ہیکہ اگر روزہ دار حالت روزہ میں اس کی حرمت کی عدم معرفت کی وجہ سے کھا پی لے تو وہ معذور ہوگا اور اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا جبکہ حالت روزہ میں کھانے اور پینے کی حرمت کتنی عام سی بات ہے اور اس کو ہر عام وخاص شخص جانتا ہے پھر بھی اگر کوئ شخص یہ کہے کہ مجھے اس کی حرمت کا علم نہیں تھا اس لۓ میں کھالیا ہوں تو اس کی بات اہل علم کے نزدیک قابل تسلیم ہوگی۔
جب عام فہم مسائل میں جہالت ایک شرعی عذر بن سکتا ہے تو مشکل مسائل میں بدرجہ اولی جہالت کوعذر شرعی کے طورپر تسلیم کیا جاۓ گا،
،،موسوعہ فقہیہ،، کے مرتبین لکھتے ہیں کہ:
،،كل مسالة تدق ويغمض معرفتها،هل يعذر فيها العامي؟وجھان:اصحھما:نعم،،
(الموسوعہ الفقھیہ ١٦/٢٠١).
وہ تمام مسائل جن کا سمجھنا مشکل اور غامض ہوتو کیا عام لوگ اس میں معذور سمجھے جائیں گے؟
اس کے متعلق دوروایتیں ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہیکہ عامی شخص کو اس میں معذور سمجھا جاۓ گا۔
اب لوٹتے ہیں اصل مسئلہ کی طرف اور وہ یہ ہیکہ اگر بالغ لڑکا یالڑکی ،،خیار بلوغ،، ہی سے واقف نہ ہوتواس کی اس ناواقفیت کو عذر تسلیم کیا جاۓ گا یا نہیں؟
اور اس ناواقفیت کی وجہ سےاگر وہ اپنے،، حق خیار،، کو استعمال کرنے کا اعلان نہ کرے تو،، خیار بلوغ،، کا حق ختم ہوجاۓ گایا نہیں؟
اس ناواقفی کو عذر تسلیم کیا جاۓ گا کیوں کہ ہمارے وطن عزیز میں جس طبقہ میں نابالغی کے نکاح کے واقعات پیش آتے ہیں وہ عموما مزدور پیشہ ہے،اور حصول روز گار کے لۓ وہاں کمسن بچوں کو بھی اس طرح لگادیا جاتا ہیکہ وہ تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں،اور ان کے یہاں لڑکیوں میں تو گویا تعلیم کا تصور ہی نہیں ہے،
ایسے حالات میں مناسب ہوگا کہ دینی تعلیم سے غفلت اور دار الکفرہونے کی وجہ سے جہالت کو عذر تسلیم کر لیا جاۓ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*:جہل ایک شرعی عذر:
شریعت میں بہت ایسے امور ہیں جن میں ،،جہل،،اور عدم معرفت کوعذر تسلیم کیا گیا ہے،چنانچہ علامہ زرکشی رقمطراز ہیں:۔لو اكل الصائم جاهلا بالتحريم وكان يجهل مثل ذلك لم يفطر والا افطر.
المنثور في القواعد:١٦۔٢/١٥الجہل یتعلق بہ مباحث۔
اگر روزہ دار روزے میں کھانے کی حرمت سے واقف نہ ہو اور کھالے اور وہاں ایسی چیزوں سے ناواقفیت ممکن ہو،تو روزہ نہیں ٹوٹے گا،ورنہ ٹوٹ جاۓ گا۔
مذکورہ قاعدہ میں غور سے معلوم ہوتا ہیکہ اگر روزہ دار حالت روزہ میں اس کی حرمت کی عدم معرفت کی وجہ سے کھا پی لے تو وہ معذور ہوگا اور اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا جبکہ حالت روزہ میں کھانے اور پینے کی حرمت کتنی عام سی بات ہے اور اس کو ہر عام وخاص شخص جانتا ہے پھر بھی اگر کوئ شخص یہ کہے کہ مجھے اس کی حرمت کا علم نہیں تھا اس لۓ میں کھالیا ہوں تو اس کی بات اہل علم کے نزدیک قابل تسلیم ہوگی۔
جب عام فہم مسائل میں جہالت ایک شرعی عذر بن سکتا ہے تو مشکل مسائل میں بدرجہ اولی جہالت کوعذر شرعی کے طورپر تسلیم کیا جاۓ گا،
،،موسوعہ فقہیہ،، کے مرتبین لکھتے ہیں کہ:
،،كل مسالة تدق ويغمض معرفتها،هل يعذر فيها العامي؟وجھان:اصحھما:نعم،،
(الموسوعہ الفقھیہ ١٦/٢٠١).
وہ تمام مسائل جن کا سمجھنا مشکل اور غامض ہوتو کیا عام لوگ اس میں معذور سمجھے جائیں گے؟
اس کے متعلق دوروایتیں ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہیکہ عامی شخص کو اس میں معذور سمجھا جاۓ گا۔
اب لوٹتے ہیں اصل مسئلہ کی طرف اور وہ یہ ہیکہ اگر بالغ لڑکا یالڑکی ،،خیار بلوغ،، ہی سے واقف نہ ہوتواس کی اس ناواقفیت کو عذر تسلیم کیا جاۓ گا یا نہیں؟
اور اس ناواقفیت کی وجہ سےاگر وہ اپنے،، حق خیار،، کو استعمال کرنے کا اعلان نہ کرے تو،، خیار بلوغ،، کا حق ختم ہوجاۓ گایا نہیں؟
اس ناواقفی کو عذر تسلیم کیا جاۓ گا کیوں کہ ہمارے وطن عزیز میں جس طبقہ میں نابالغی کے نکاح کے واقعات پیش آتے ہیں وہ عموما مزدور پیشہ ہے،اور حصول روز گار کے لۓ وہاں کمسن بچوں کو بھی اس طرح لگادیا جاتا ہیکہ وہ تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں،اور ان کے یہاں لڑکیوں میں تو گویا تعلیم کا تصور ہی نہیں ہے،
ایسے حالات میں مناسب ہوگا کہ دینی تعلیم سے غفلت اور دار الکفرہونے کی وجہ سے جہالت کو عذر تسلیم کر لیا جاۓ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واللہ اعلم بالصواب۔۔

0 Comments