نامردی کی وجہ سے فسخ نکاح
ذاکر عباس سنابلی سلفی
امراض وعیوب
انسانی زندگی میں بیماری ایک لازمی شئ ہے، اور بعض بیماریاں ایسی ہیں جو مرد وعورت کے مابین نفرت کا سبب بن جاتی ہیں، اور بسا اوقات بیماریوں کی وجہ سے زوجین کے مابین صنفی تعلق کو قائم کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
سوال ہیکہ آخروہ کونسی بیماریاں ہیں جن کی وجہ سے فسخ نکاح کا مطالبہ درست ہے؟
فقھاۓ کرام نے ان عیوب کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے:
١: ایسی بیماریاں جو مرد وعورت کے درمیان مشترک ہیں۔
٢: وہ بیماریاں جو مردوں کے لۓ مخصوص ہیں۔
٣: وہ بیماریاں جو عورتوں کے لۓ مخصوص ہیں۔
١: مردو عورت کے مابین مشترک بیماریاں
الف:جنون (پاگل پن).
ب:جذام (کوڑھ).
ج:برص (سفید وسیاہ داغ).
٢:وہ بیماریاں جو مردوں کے لۓ مخصوص ہیں
الف:خصاء (مردوں کے فوطوں کی گولیاں نکال دی گئ ہوں).
ب:جب:(مرد کا عضو تناسل کٹا ہوا ہو).
ج:عنہ:(نامرد ہونا).
د:اعتراض:(مرد کے عضو تناسل میں ایستادگی نہ ہو)۔
٣ :وہ بیماریاں جو عورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں
الف:قرن:(ایک بیماری ہے جس میں عورت کی شرمگاہ میں ہڈی نکل آتی ہے اور اس سے ہم بستری دشوار ہوجاتی ہے).
ب: رتق:(اندام نہانی پر گوشت کا ایسا ٹکڑا ہوجاۓ کہ جماع نہ کیا جاسکے)۔
ج: عفل (یہ بھی ایک زائد گوشت ہوتا ہےجس کی وجہ سے اتنی تنگی پیدا ہوجاتی ہے کہ جماع نہیں کیا جاسکتا ).
د:افضاء:جماع کی کثرت کے باعث ہم بستری اور پائخانہ کے راستوں کا مل جانا۔
ھ:بخر:(شرمگاہ یا بغل یا منھ سے بدبو آنا).
یہ وہ امراض وعیوب ہیں جو مختلف مکاتب فکر کے کتب فقہ میں موجود ہیں اور یہ موجب فسخ نکاح ہیں،
لیکن وہ امراض وعیوب جن سے نکاح فسخ ہوتا ہے ان کو کسی عدد کے ساتھ مخصوص کرنا محل نظر ہے یہی وجہ ہے اس بارے میں شیخ الاسلام ابن القیم کا موقف بہت عمدہ ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
«،،ومن تدبر مقاصد الشرع في مصادره وموارده وعدله وحكمته وما اشتملت عليه من المصالح لم يخف عليه رجحان هذا القول وقربه من قواعد الشريعة ...واما الاقتصار علي عيبين او ثلاثة او اربعة اوخمسة اوستة او سبعة او ثمانية ما هو اولي منها ،او مساويها فلا وجه له ،فالعمي والزمن والطرش وكونها مقطوعة اليدين او الرجلين او احديهما اعظم المنفرات...،، (زاد المعاد ٥/١٦٧،فصل في حكمه صلي الله عليه وسلم وخلفائه في احد الزوجين يجد بصاحبه برصا أو جنونا أو جذاما أو يكون الزوج عنينا،،).»
اور جو شخص شریعت کے مقاصد، اس کے مصادروماخذ اور اس کے عدل و حکمت اور جن مصلحتوں کو وہ شامل ہے، اس پر غور کرے گا تو اس پر اس قول (عیوب کی وجہ سے فسخ نکاح) کا راجح ہونا مخفی نہیں رہ سکتا اور یہ بات کہ یہ شریعت کے اصول سے قریب ہے۔۔۔
اور دو یا تین یا چار،پانچ،سات،آٹھ عیوب یا اس سے بڑھ کریا اس کے مساوی قسم کے عیوب کی تحدید کی کوئ وجہ نہیں ہے، اس لۓ کہ نابینا،گونگا،دونوں ہاتھ یا پاؤں کٹا ہونا،یا ایک کا کٹا ہوا ہونا بھی سخت نفرت کا باعث ہوسکتا ہے،
خلاصہ بحث
کسی بیماری اور عیب کے پاۓ جانے کی صورت میں زوجین میں سے کسی کو فسخ نکاح کے مطالبہ کا کوئ حق ہے یا نہیں؟
اس بارے میں دو مشھور اقوال ہیں:
١:ظاہریہ کا کہنا ہیکہ زوجين میں سے کسی کو بھی فسخ نکاح کے مطالبہ کا کوئ حق نہیں۔
٢:جمہور علماء کے نزدیک عیب کے پاۓ جانے کی صورت میں زوجین کو فسخ نکاح کےمطالبہ کا حق ہے۔
ظاہریہ کے دلائل
اہل ظاہر کا کہنا ہیکہ جب ایک نکاح صحیح طور پرمکمل ہوچکا تواس کے فسخ کۓ جانے کے لۓ شرعی دلیل کی ضرورت ہے،جو صحیح ہودو سری طرف عیوب کی وجہ سے فسخ نکاح کی بابت جتنی حدیثیں پیش کی جاتی ہیں،وہ سبھی ضعیف ہیں۔
چنانچہ امام ابن حزم اپنی مایہ ناز کتاب،،المحلی،،(١١/١٧٥) میں لکھتے ہیں:
«،،واما الرواية عن عمر وعلي فمنقطعة وعن ابن عباس من طريق لاخير فيه،،»
منجملہ دلائل جن سے ابن حزم نے استدلال کیا ہے وہ حدیث ہے جس میں رفاعہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تمیمہ بنت وھب کے واقعہ کا ذکر ہیکہ انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کیا کہ ان کے شوہر کا عضو مخصوص کپڑے کے جھالے کے مانند ہے،
اس حدیث سے استدلال کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے شوہر کی قوت مردمی میں نقص کی شکایت کی اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مابین تفریق نہیں کرائ۔بلکہ فرمایا:تم اپنے پہلے شوہر کے لۓ اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتیں،جب تک کہ اس شوہر کا مزہ نہ چکھ لو،یعنی ہم بستری نہ ہوجاۓ، تو اگر عیب کی وجہ سے تفریق کی گنجائش ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تفریق کردیتے۔(المحلی ١١/١٧٥ مایفسخ بہ النکاح بعد صحتہ وما لا یفسخ بہ، کتاب الظہار).
امام ابن حزم کامذکورہ حدیث سے استدلال محل نظر ہے کیوں کہ رفاعہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تمیمہ بنت وھب رضی اللہ عنہا نے اپنے دوسرے شوہر سے فسخ نکاح کا مطالبہ نہیں کیا تھا،دوسرے شوہر نے تو ان کو طلاق دے ہی دی تھی،بلکہ وہ یہ دریافت کرنا چاہتی تھیں کہ کیا اب وہ اپنے پہلے شوہر رفاعہ رضی اللہ عنہ کے لۓ جو ان کو تین طلاق دے چکے تھے،حلال ہوگئیں اوراب وہ ان کے نکاح میں جاسکتی ہیں،جبکہ دوسرے شوہر ان سے جماع نہ کرسکے،
جمہور کے دلائل
جمہور فقھاء نے جن دلائل سے استدلال کیا ہے وہ حسب ذیل ہیں:
پہلی دلیل
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:
«،،تزوج رسول الله امراة من بني غفار فلما دخلت عليه ووضعت ثيابها راي بكشحهابياضا فقال لهاالنبي صلي الله عليه وسلم :البسي ثيابك والحقي باهلك وامر لها بالصداق،،»
مستدرك( ٦٩٩٦) سعيد بن منصور( ٨٢٩).
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو غفار کی العالیہ نامی خاتون سے نکاح کیا،پس جب وہ آپ کے پاس آئیں اور انہوں نے اپنے کپڑے اتارے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلو( کمر/پیٹ)پر سفید داغ( برص/پھلبہری کا نشان)دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے کپڑے پہن لو اور اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں انکا پورا حق مہر اداکرنے کا حکم فرمایا۔یہ حدیث ضعیف ہے لہذا قابل حجت نہیں۔
دوسری دلیل
وہ نکاح کو معاملہ خرید وفروخت پر قیاس کرتے ہیں،جمہور کا کہنا ہیکہ جس طرح سامان میں عیب کے پاۓ جانے کی وجہ سے واپس کردیا جاتا ہے اسی طرح نکاح میں بھی عیب پاۓ جانے کی صورت میں نکاح کو فسخ کرنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔
جمہور کے مذکورہ دلیل کاتفصیلی جواب ابن حزم نے اپنی کتاب،، المحلی،،میں دیا ہے،اور اگر دیکھا جاۓ تو نکاح اور بیع میں کئ وجوہ سے فرق ہے بیع کو تو ہر قسم کے عیب کے پاۓ جانے کی صورت میں مسترد کیا جاسکتا ہے جبکہ نکاح میں ہر قسم کے عیب خواہ ومعمولی ہی کیوں نہ ہو ان کی وجہ سے فسخ نہیں کیا جاتا ہے۔
تیسری دلیل
اگر شوہرکا ذکر کٹا ہوا ہے تو ظاہریہ کے علا وہ تمام فقھاء کا اتفاق ہیکہ بیوی فسخ کا مطالبہ کرسکتی ہے،کیوں کہ یہ ایک عیب ہے جس کی وجہ سے وہ جماع پر قادر نہیں ہوسکتا اسی طرح موذی بیماریوں کی وجہ سے طبیعت نفرت کرتی ہے لہذا بیماریوں کا بھی یہی حکم ہونا چاہۓ۔
جمہور کے تینوں دلائل میں یہی آخری دلیل زیادہ وجیہ ہے لہذا یہی دوسری راۓ راجح ہے۔
نامردی کی وجہ سے فسخ نکاح
نکاح کا بنیادی مقصد ایک دوسرے کی جنسی تسکین ہے،اور شریعت اسلامیہ میں بیوی سے جنسی تعلق ترک کرنے کو ایک سرزنش کا درجہ دیا گیا ہے،
اب اگر کسی خاتون کی ایسے شخص سے نکاح ہو جو نا مرد ہوتو اس کے لۓ فسخ نکاح کے مطالبہ کی کہاں تک گنجائش ہے؟
اس بارے میں جمہور فقھاء کی راۓ یہ ہیکہ اگر شوہر نامرد ہواور ایک دفعہ بھی بیوی سے نہ مل سکا ہواور عورت مطالبہ کرے کہ اس کا نکاح اس مرد سے فسخ کردیا جاۓ،تو قاضی اس کا نکاح فسخ کردے گا۔لیکن اس کے لۓ جو شرطیں ہیں ان کے بارے میں فقھاء کے مابین اختلاف ہے۔
نامرد شخص سے نکاح کی دو مشہور صورتیں ہیں:
١: اگر کوئ خاتون کسی ایسے شخص سے نکاح کرتی ہے جس کے نامردی سے پہلے ہی سے باخبر ہے اس کے باوجود وہ خاتون نامرد کے ساتھ رہنے پر آمآدگی ظاہر کردے۔
٢: دوسری صورت یہ ہیکہ کوئ خاتون کسی ایسے شخص سے شادی کرے جس کے نامردی کا علم نکاح کے بعد ھو لیکن علم ہونے کے بعد بھی اس کے ساتھ رہنے کے لۓ تیار ہو۔
ان دونوں صورتوں میں اپنی عصمت کی حفاظت اور داعیہ نفس کی شدت کے پیش نظر جب چاہے وہ فسخ نکاح کا مطالبہ کرسکتی ہے، اس کے ساتھ رہنے پر رضامند ہوجانے کی وجہ سے اس کا وہ حق ساقط نہیں ہوتا۔
تنبیہ۔
علامہ صنعانی نے امام اوزاعی،سفیان ثوری،ابو حنیفہ،مالک،شافعی اور اسحاق بن راہویہ کا نقطہ نظر نقل کیا ہیکہ اگر مرد نےایک بار بھی عورت سے مباشرت کر لی توعورت کا حق صحبت ختم ہوجاتا ہے،اس لۓ آئندہ اگر وہ نامرد بھی ہوجاۓتو عورت فسخ کا مطالبہ نہیں کرسکتی،،سبل السلام (٣/٢٨٩)عیوب النکاح وفسخہا۔
لیکن جمہور کی یہ راۓ محل نظر ہے کیوں کہ ایک بار جماع کرنے کے بعد نامرد ہوجانے کی صورت میں عورت کی جنسی خواہش کی تکمیل ممکن نہیں جس کے مفاسد سے انکار نہیں کیا جاسکتا لہذا اس صورت میں بھی اس کا فسخ نکاح کے حق کا مطالبہ بر قرار رکھنا معقول ہے۔
واللہ اعلم باالصواب

0 Comments