٦- وَعَنْ أَبِي بَكْرَةً نُفَيْعِ بْنِ الحَارِثِ الثَّقَفِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إذا التَّقَى المُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالقَاتِلُ والمَقْتُولُ فِي النَّارِ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ الله، هُذَا القَاتِلُ فَمَا بَالُ المَقْتُولِ؟ قَالَ: إِنَّهُ كَانَ حَرِيْصاً عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ.
_(صحيح بخاری: ٧٠٨٣ / صحیح مسلم: ٢٨٨٨)_
٦- حضرت ابو بکرہ نفیع بن حارث ثقفی سے روایت ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں سونت کر ایک دوسرے کو ( مارنے کی نیت سے ) ملتے ہیں ایک دوسرے کے مد مقابل آتے ہیں) تو یہ قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں ۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! قاتل کا جہنمی ہونا تو سمجھ میں آتا ہے مقتول جہنمی کیوں ہو گا ؟ آپ نے فرمایا: ”اس لیے کہ وہ بھی اپنے ( دوسرے مسلمان ) ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔
(صحيح بخاری: ٧٠٨٣ / صحیح مسلم: ٢٨٨٨)
فوائد و مسائل :
١- اس سے معلوم ہوا کہ اس ارادہ معصیت پر انسان مستحق عتاب الہی ہوگا جس کا اس نے اپنے دل میں پختہ عزم کیا ہوگا اور اس کے ارتکاب کے لیے اسباب و وسائل بھی اختیار کیے گئے ہوں گے، گو وہ اس میں کسی رکاوٹ کی وجہ سے کامیاب نہ ہوا ہو۔
٢۔ عزم وسوسے سے مختلف ہے وسوسہ معاف ہے جب کہ عزم ( پختہ ارادہ) قابل مواخذہ ہے تاہم حدیث میں جو وعید مذکور ہے اس کا مصداق باہم لڑنے والے مسلمان اس وقت ہوں گے جب وہ دنیاوی حمیت و عصبیت کی بنا پر لڑ رہے ہوں ۔ کوئی شرعی معاملہ ان کے باہمی قتال کی بنیاد نہ ہو کیونکہ اس صورت میں ممکن ہے کہ دونوں ہی کا مبنیٰ اپنا اپنا اجتہاد ہو جس میں وہ عنداللہ معذور سمجھے جائیں۔
ایسے ہی اور میسج حاصل کرنے کے لیے واٹساپ چینل کو جوئن کر لیجیے.
☜︎︎︎واٹساپ چینل سے جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں☞︎︎︎
- - - - - - - - - - - - - - - - - - -
مکتبہ مصباح الاسلام احمدآباد، گجرات

0 Comments