صحیح بخاری: ١٤٢٢صحیح بخاری: ١٤٢٢


٣- وعن أبي يَزِيدَ مَعْنِ بنِ بريد بن الأخنس رضي الله عنهم وهو وأبوه وَجَدُّه صحابيون قال : وَكَانَ أَبِي يَزِيدُ أَخْرَجَ دَنَانِيرَ يَتَصَدَّقُ بِهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَجِئْتُ فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ مَا إِيَّاكَ أَرَدْتُ فَخَاصَمْتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَكَ مَا نَوَيْتَ يَا يَزِيدُ وَلَكَ مَا أَخَذْتَ يَا مَعْنُ.

(صحیح بخاری: ١٤٢٢)


٥- حضرت ابو یزید معن بن یزید بن اخنس اور یہ معن خود ان کے باپ یزید اور دادا اخنس تینوں صحابی ہیں، نے بیان کیا کہ میرے باپ یزید نے کچھ دینار صدقے کے لیے نکالے اور وہ انھیں مسجد نبوی) میں ایک آدمی کے پاس رکھ آئے ( تا کہ وہ کسی ضرورت مند کو دے دے۔) میں مسجد میں آیا تو میں نے وہ دینار اس سے لے لیے (کیونکہ میں ضرورت مند تھا) اور وہ (گھر) لے آیا ۔ ( جب والد کو معلوم ہوا) تو انھوں نے فرمایا: واللہ ! تجھ کو دینے کا تو میں نے ارادہ ہی نہیں کیا تھا۔ چنانچہ میں اپنے والد کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آیا اور یہ جھگڑا آپ کے سامنے پیش کر دیا۔ آپ نے فرمایا: "اے یزید ! تیرے لیے تیری نیت کا ثواب ہے۔ اور اسے معن ! تو نے جو لیا ہے وہ تیرے لیے (جائز) ہے۔


 فوائد و مسائل:

١- اس سے معلوم ہوا کہ اگر صدقہ غیر ارادی طور پر محتاج بیٹے کے ہاتھ میں آ گیا تو اسے واپس لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ باپ نے تو کسی مستحق کو دینے کی نیت کی تھی، اسے اس کی نیت کے مطابق صدقے کا اجر مل گیا، تاہم یہ بات بعض علماء کے نزدیک نفلی صدقے صدقے پر محمول ہو گی کیونکہ صدقہ واجبہ ( زکاۃ) کی رقم انھیں نہیں دی جا سکتی جن کا خرچ انسان کے ذمے واجب ہے۔

 ٢- صدقے کے لیے کسی کو وکیل بنانا جائز ہے۔ 

٣- شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے باپ کو حاکم مجاز یا عالم دین کے پاس لے جانا باپ کی نافرمانی نہیں ہے جیسے شرعی مسائل میں با هم بحث و تکرار گستاخی نہیں ہے.


ایسے ہی اور میسج حاصل کرنے کے لیے واٹساپ چینل کو جوئن کر لیجیے.

☜︎︎︎واٹساپ چینل سے جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں☞︎︎︎

- - - - - - - - - - - - - - - - - - - 

 مکتبہ مصباح الاسلام احمدآباد، گجرات

Post a Comment

0 Comments