۱- عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ : " إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيهَا، أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ.

(صحيح البخاری : ۱ / صحيح المسلم : ۱۹۰۷)


١. امیر المومنین ابو حفص عمر بن خطاب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : عملوں کا دارومدار نیتوں ہی پر ہے۔ ہر شخص کو اس کی (اچھی یا بری) نیت کے مطابق (اچھا یا برا ) بدلہ ملے گا۔ چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہوگی اس کی ہجرت انھی کی طرف سمجھی جائے گی۔ اور جس نے دنیا حاصل کرنے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کی غرض سے ہجرت کی تو اس کی ہجرت انھی مقاصد کے لیے ہوگی ۔

(صحيح بخاری : ۱ /  صحيح مسلم : ۱۹۰۷)


 𒊹︎︎︎ بعض روایات میں اس حدیث کا پس منظر یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے ام قیس نامی عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ اس نے اس وقت تک نکاح کرنے سے انکار کر دیا جب تک وہ ہجرت نہ کرے۔ چنانچہ اس نے اس کی اس شرط کی وجہ سے ہجرت کر لی اور وہاں جا کر دونوں کا باہم نکاح ہو گیا۔ اس وجہ سے صحابہ میں اس کا نام ہی مہاجر ام قیس مشہور ہو گیا۔


فوائد و مسائل :

 اس حدیث کی بنیاد پر علماء کا اتفاق ہے کہ اعمال میں نیت ضروری ہے اور نیت کے مطابق ہی اجر ملے گا، تاہم نیت کا محل دل ہے، یعنی دل میں نیت کرنا ضروری ہے، زبان سے اس کا اظہار ضروری نہیں۔ بلکہ یہ بدعت ہے جس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں۔ (صفة صلاة النبي ﷺ ( مفصل ) الألباني: 175/4) جیسے نماز پڑھتے وقت پاک و ہند میں زبان سے نیت کے اظہار کا عام رواج ہے تاہم حج کا تلبیہ اس سے مستثنی ہے۔ ہر کام کے لیے اخلاص ضروری ہے یعنی ہر نیک عمل میں صرف اللہ کی رضا پیش نظر ہو۔ اگر کسی نیک عمل میں اخلاص کی بجائے کسی اور جذبے کی آمیزش ہو جائے گی تو عنداللہ وہ عمل مقبول نہیں ہو گا ۔ اسی طرح قبولیت عمل کے لیے اخلاص کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ عمل رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ہو۔


 ایسے ہی اور میسج حاصل کرنے کے لیے واٹساپ چینل کو جوئن کر لیجیے.

☜︎︎︎واٹساپ چینل سے جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں☞︎︎︎

- - - - - - - - - - - - - - - - - - - 

 مکتبہ مصباح الاسلام احمدآباد، گجرات

Post a Comment

0 Comments