٢- وَعَنْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو جَيْشٌ الْكَعْبَةَ فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنْ الْأَرْضِ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ وَفِيهِمْ أَسْوَاقُهُمْ وَمَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ قَالَ يُخْسَفُ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ.

(صحيح البخاري: ٢١١٨ / صحيح مسلم: ٢٨٨٤)


٢- ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ سلام نے فرمایا: ”ایک لشکر خانہ کعبہ پر چڑھائی کرنے کی نیت سے نکلے گا جب وہ بیداء (کسی چٹیل میدان ) میں پہنچے گا تو اس کے اول و آخر (سب کے سب) زمین میں دھنسا دیے جائیں گے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ان کے اول و آخر یعنی سب کو کیسے دھنسا دیا جائے گا جب کہ ان میں بازاری لوگ ہوں گے (یعنی حکام کے علاوہ عام افراد یا منڈی ۔ کے لوگ۔ اور مطلب ہے کہ وہ جنگجو نہیں ہوں گے ) اور وہ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ”ان کے اول اور آخر سب دھنسا دیے جائیں گے پھر وہ اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے (یعنی قیامت والے دن ان سے معاملہ ان کی نیتوں کے مطابق کیا جائے گا ) ۔

(صحيح البخاري: ٢١١٨ / صحيح مسلم: ٢٨٨٤)



 فوائد و مسائل:

١- انسان کے ساتھ روز قیامت اچھا یا برا معاملہ اس کے قصد و ارادے کے مطابق کیا جائے گا۔

٢- اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ظلم و فجور کے مرتکبین کی ہم نشینی نہایت خطرناک ہے۔

٣- یہ کون سا لشکر ہے اور اس کا وقوع کب ہو گا؟ اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ پیش گوئیاں امور غیب سے ہیں جو نبی کی تعلیم کے معجزات میں سے ہیں، جن کے وقوع اور صداقت پر ایمان رکھنا ضروری ہے اس لیے کہ اس قسم کی پیش گوئیاں وحی الہی پر مبنی ہیں۔

٤- اس سے بیت اللہ کی عزت و حرمت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ وہاں فساد بر پا کرنا کس قدر شدید جرم ہے۔


 ایسے ہی اور میسج حاصل کرنے کے لیے واٹساپ چینل کو جوئن کر لیجیے.

☜︎︎︎واٹساپ چینل سے جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں☞︎︎︎

- - - - - - - - - - - - - - - - - - - 

 مکتبہ مصباح الاسلام احمدآباد، گجرات

Post a Comment

0 Comments