٤- عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي عَامَ حَجَّةِ الوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اشْتَدَّ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي قَدْ بَلَغَ بِي مِنَ الوَجَعِ وَأَنَا ذُو مَالٍ، وَلاَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَةٌ، أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ: «لاَ» فَقُلْتُ: بِالشَّطْرِ؟ فَقَالَ: «لاَ» ثُمَّ قَالَ: «الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَبِيرٌ - أَوْ كَثِيرٌ - إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً تَبْتَغِي بِهَا وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا أُجِرْتَ بِهَا، حَتَّى مَا تَجْعَلُ فِي فِي امْرَأَتِكَ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُخَلَّفُ بَعْدَ أَصْحَابِي؟ قَالَ: إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا صَالِحًا إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ دَرَجَةً وَرِفْعَةً، ثُمَّ لَعَلَّكَ أَنْ تُخَلَّفَ حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ، وَيُضَرَّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ، وَلاَ تَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ، لَكِنِ البَائِسُ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ.
(صحیح بخاری: ١٢٩٥ / صحیح مسلم: ١٦٢٨)
٦- ابو اسحاق سعد بن ابی وقاص جو ان دس صحابہ میں سے ایک ہیں جنھیں جنت کی خوش خبری دنیا ہی میں دے دی گئی تھی، فرماتے ہیں کہ میری بیمار پرسی کے لیے حجتہ الوداع کے سال رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے ۔ مجھے اس وقت شدید درد تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ دیکھ رہے ہیں کہ میرا درد کیسی شدت اختیار کر گیا ہے میں صاحب مال ہوں لیکن میری وارث صرف میری ایک ہی بیٹی ہے۔ کیا میں اپنے مال کا دو تہائی حصہ خیرات کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔“ میں نے کہا: آدھا مال؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں۔ میں نے کہا: پھر اے اللہ کے رسول ﷺ ! ایک تہائی مال صدقہ کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: " تیسرا حصہ (تم خیرات کر سکتے ہو) اور تیسرا حصہ بھی زیادہ یا بڑا ہے، اس لیے کہ تم اپنے وارثوں کو صاحب حیثیت چھوڑ کر جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انھیں کنگال کر کے جاؤ اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ (یاد رکھو!) تم جو بھی اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرو گے تو اس پر تمھیں اجر ملے گا، حتی کہ جو لقمہ تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے ( اس پر بھی ثواب ہو گا ) ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا میں اپنے ساتھیوں کے بعد پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا ؟ (یعنی کیا میرے ساتھی مجھ سے پہلے فوت ہو جائیں گے اور میں دنیا میں اکیلا رہ جاؤں گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ” اگر ایسا ہوا بھی تو کیا یہ تمھارے حق میں اچھا ہی ہے) بلاشبہ ساتھیوں کی وفات کے بعد جب تم ان کے پیچھے رہ جاؤ گے تو جو بھی عمل اللہ کی رضا کے لیے کرو گے اس سے تمھارے درجے میں زیادتی اور بلندی ہی ہوگی، نیز شاید تمھیں مزید زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے حتی کہ کچھ لوگ ( اہل ایمان ) تم سے فائدہ اٹھائیں اور کچھ دوسرے لوگوں ( کافروں ) کو تم سے نقصان پہنچے۔ (پھر آپ نے دعا فرمائی: ) اے اللہ ! میرے صحابہ کی ہجرت کو جاری (پورا) فرمادے اور انھیں ان کی ایڑیوں پر نہ لوٹا۔ لیکن قابل رحم سعد بن خولہ ہیں ۔ ان کے لیے رسول اللہ ﷺ رحمت کی دعا فرماتے تھے اس لیے کہ وہ مکے میں فوت ہوئے تھے.
(صحیح بخاری: ١٢٩٥ / صحیح مسلم: ١٦٢٨)
فوائد و مسائل:
١- صحابہ کرام بھی اس شہر میں اقامت پذیر ہونا پسند نہیں کرتے تھے جس سے انھوں نے اس کی محبت کے باوجود محض اللہ کی رضا کے لیے ہجرت کی تھی اس لیے حضرت سعد ڈرتے تھے کہ کہیں ان کی موت مکے میں نہ آئے۔ چنانچہ ان کے لیے آپ نے ہجرت کے اتمام کی دعا فرمائی اور سعد بن خولہ کی حالت زار پر آپ نے دکھ کا اظہار فرمایا کیونکہ ان کی وفات مکے میں ہوئی جس کی وجہ سے وہ ہجرت کے پورے ثواب سے محروم رہے۔
٢- یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مرض الموت میں انسان ایک تہائی مال (1/3) سے زیادہ صدقہ یا وصیت نہیں کر سکتا۔ لیکن اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فوت ہونے سے پہلے صدقہ کرنا مستحسن امر ہے۔ سلف صالحین میں سے اس کی بکثرت مثالیں ملتی ملتی ہیں اس لیے دور حاضر میں اصحاب ثروت کو اپنی جائیداد کا کچھ نہ کچھ اللہ کے لیے ضرور وقف کرنا چاہیے کیونکہ دینی مدارس اور مساجد کی حکومتی سر پرستی نہ ہونے کی وجہ سے شدید مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔
٣- انسان کی اگر نیت صحیح ہو تو بیوی بچوں پر جو کچھ خرچ کرتا ہے اس پر بھی اسے اجر ملتا ہے۔
٤- کسی صحیح غرض کی خاطر انسان اپنی بیماری یا تکلیف کا اظہار کر سکتا ہے تا کہ اس کا علاج یا دعا کی جا سکے یہ اللہ کے خلاف شکوہ نہیں ہے۔
٥- انفاق و صدقات میں اپنے قریب ترین رشتے داروں کو اولیت اور فوقیت دی جائے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان کے تعیشات کے لیے زکاۃ خرچ کی جائے جبکہ عام غرباء زیادہ ضرورت مند ہوں جیسا کہ بعض فی زمانہ اس طرح کرتے ہیں۔
ایسے ہی اور میسج حاصل کرنے کے لیے واٹساپ چینل کو جوئن کر لیجیے.
☜︎︎︎واٹساپ چینل سے جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں☞︎︎︎
- - - - - - - - - - - - - - - - - - -
مکتبہ مصباح الاسلام احمدآباد، گجرات

0 Comments